loader-image
Karachi, PK
temperature icon 28°C
24-Sep-2026
11-Rabi' al-Thani-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 28°C
24-Sep-2026
11-Rabi' al-Thani-1448

روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں ایک سال کی توسیع سے متعلق امریکی قرارداد کو ویٹو کردیا۔

غیرملکی خبر ایجنسی  کے مطابق اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل میں امریکی مسودے کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

 سلامتی کونسل کے مستقل ارکان روس اور چین نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکا کی قرارداد کو ویٹو کردیا جس کے باعث قرارداد منظور نہ ہوسکی۔ووٹنگ کے دوران روس اور چین نے قرارداد کی مخالفت کی بنیادی وجہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے قانونی جواز اور اسنیپ بیک میکانزم سے متعلق اختلاف کو قرار دیا تھا۔

روس اور چین کا مؤقف ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 میں طے شدہ مدت ختم ہوچکی ہے اس لیے مغربی ممالک کی جانب سے اسنیپ بیک طریقہ کار کے ذریعے پرانی پابندیاں بحال کرنے کی قانونی حیثیت متنازع ہے۔

روسی سفیر واسیلی نیبنزیا نے سلامتی کونسل میں کہا کہ ایران کے جوہری معاملے پر اختلافات کا حل سیاسی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔چین  کا مؤقف بھی یہی ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 ختم ہوچکی ہے اور سلامتی کونسل کو ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے۔

سلامتی کونسل میں اس امریکی قرارداد کا مقصد ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے پینل آف ایکسپرٹس کا مینڈیٹ ستمبر 2027 تک یعنی مزید ایک سال کی توسیع کرنا تھا۔پینل آف ایکسپرٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور رپورٹنگ میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں