اسلام آباد مذاکرات میں کون شریک ہے؟
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی تیاری زور و شور ختم ہو کر اب میز تک پہنچے والے ہیں۔ساری دنیا کا میڈیا اسلام آباد پہنچنا چاہتا ہے اور جو پہنچ گئے ہیں وہ پرجوش ہیں کہ ددنیا میں امن قائم ہونے کی پہلی پیش رفعت کو لوگوں کو پہنچا سکیں گے ۔ جو نہیں پہنچ سکے ان کی پوری توجہ اس وقت خبرو ں پر لگی ہوئی ہیں ۔
بین القوامی میڈیا پاکستان کو ” دنیا کے امن” میں اہم ضامن کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ چین ،عرب ممالک ، ترکی اور پورے یورپ سے ہی پاکستان کی ستائش کی گئی ہے۔ پاکستان کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اعلیٰ سطحی مذاکرات آج ہفتے کے روز ہواسلام آباد میں ہو رہے ہیں ۔ ایران کا وفد کل رات اسلام آباد پہنچ چکا تھا جبکہ امریکا کا 71 جن میں تینوں ممالک کے اہم سیاسی اور عسکری رہنما شریک ہو سکتے ہیں۔

امید کی جارہی ہے کہ امریکہ کی جانب سے نائب صدر ، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف ، سابق صدارتی مشیر اور ٹرمپ کے دامادجیرڈ کشنر اور سینٹکام کمانڈر بیڈ کاپر کی شرکت متوقع ہے، جو مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی مؤقف پیش کریں گے۔ان شخصیات کا مختصر تعاف پیش خدمت ہے۔
جے ڈی وینس (امریکی نائب صدر):وفد کی قیادت 50 سالہ جیمز ڈیوڈ وینس کر رہے ہیں۔ وینس سابق ملٹری جرنلسٹ ہیں اور انہوں نے سیاست کا آغاز امریکی کی دوسرے ملکوں میں فوجی مداخلت کے سخت نقاد کے طور پر کیا تھا۔ وہ ’ماگا‘ تحریک کے سب سے بڑے علمبرداروں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔
سٹیو وٹکوف (خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ):ریئل سٹیٹ سے وابستہ ارب پتی وٹکوف فروری 2026 میں ہونے والے ان مذاکرات کا حصہ تھے جن کی ناکامی کے بعد جنگ شروع ہوئی تھی۔ ایران ان پر ’غیر روایتی‘ سفارت کاری اور وعدہ خلافی کا الزام لگاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ تہران میں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔ تاہم، وہ واشنگٹن کے 15 نکاتی پلان کے اہم خالق ہیں۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دنوں میں ان سے بھی رابطے رہے ہیں۔
جیرڈ کشنرٹرمپ کے داماد اور افینیٹی پارٹنرز کے بانی جیرڈ کشنر کا عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور قطر کے ساتھ گہرا کاروباری اور سیاسی تعلق ہے۔ وہ ماضی میں ’ابراہیمی معاہدات‘ کے معمار رہے ہیں۔ وہ جنگ سے قبل عمان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں شامل تھے، اس لیے انہیں بھی ایران میں زیادہ پسند نہیں کیا جاتا، لیکن ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں سفارتی ڈھانچے میں ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔

خیال کیا جارہا ہے کہ ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔ جبکہ نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی اور قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر زولگدر کی شرکت تاحال غیر مصدقہ ہے۔
عباس عراقچی (ایرانی وزیرِ خارجہ) برطانیہ سے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے والے عراقچی 2015 کے جوہری معاہدے کے اہم مذاکرات کار رہے ہیں۔ وہ ایران کی خارجہ وزارت میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں اور انہیں ’سخت مذاکرات کا ماہر‘ مانا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایران کے سخت گیر طبقوں اور مغرب کے درمیان پل کا کردار سرانجام دے سکتے ہیں۔خیال رہے کہ عراقچی فروری کے شروع میں عمان میں ہونے والے امریکی ایرانی مذاکرات میں بھی شریک تھے۔
محمد باقر قالیباف (سپیکر پارلیمنٹ) پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر اور رہبرِ اعلیٰ کے معتمدِ خاص، قالیباف کا کردار محض سیاسی نہیں بلکہ عسکری بھی ہے۔ وہ امریکہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی کے قریبی ساتھی رہے ہیں اور حالیہ حملوں میں علی لاریجانی کے قتل کے بعد ان کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن انہیں ایک ’ہاٹ آپشن‘ کے طور پر دیکھ رہا ہے کیونکہ وہ ایران کے عسکری اور معاشی مفادات کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف ، آرمی چیف حافظ عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور قومی سلامتی کے مشیرمحمد عاصم ملک مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ کردار خطے میں ایک اہم سفارتی پیش رفت ہو سکتا ہے، جہاں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اس وقت اسلام آباد کے سکیورٹی زون پر جمی ہیں، جہاں بند کمروں کے پیچھے ہونے والے ہائی پاور، ہائی سٹیک فیصلے عالمی معیشت کا مستقبل طے کریں گے۔
