اداکارہ کنزا ہاشمی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچیوں اور عورتوں کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہے۔
ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بات چیت کرتے ہوئے اداکارہ کنزا ہاشمی نے کہا کہ آئے دن بد ترین خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ حکومت کو بچیوں اور خواتین کے لیے قانون سازی کرنی پڑے گی تا کہ ہم اپنے آپ کو محفوظ محسوس کر سکیں۔
کنزا ہاشمی نے حکومت سے درخواست کی کہ جگہ جگہ کیمرے لگائے جائیں۔ عورتوں کے لیے ایک الگ ہیلپ لائن بنائے جائے جس پر اگر ایمرجنسی میں کال کی جائے تو 5 منٹ میں فوری طور ایکش لیتے ہوئے ان کی مدد کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں بھی کیمرے لگنے چاہیے ہیں اور والدین کی ان کیمروں تک رسائی ہونی چاہیے تاکہ وہ بچوں کو دیکھ سکیں کہ ان کے بچے اسکول میں کیا کر رہے ہیں۔
کنزا ہاشمی نے کہا کہ میرا تعلق پنجاب سے ہے اور مجھے کراچی اچھا لگتا ہے۔اس شہر کے لوگوں نے مجھے بہت پیار دیا۔ کراچی میری توقعات سے بڑھ کر اچھا ثابت ہوا میں نے ڈراموں کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔
اداکارہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ڈرامے دُنیا بھر میں مقبول ہیں۔ مختلف ممالک میں ہمیں دیکھا جاتا ہے۔ دُنیا کو کوئی کونہ ایسا نہیں ہے جہاں ہمارے فین موجود نہ ہو۔ خواہش ہے کہ فلم کے روپ میں بھی ہم پاکستانی سنیما کو دنیا بھر میں لے کر جائیں۔