loader-image
Karachi, PK
temperature icon 28°C
24-Sep-2026
10-Rabi' al-Thani-1448
×
loader-image
Karachi, PK
temperature icon 28°C
24-Sep-2026
10-Rabi' al-Thani-1448

لاہور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف کارروائیوں میں شدت آگئی ہے۔ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی تین بہنوں، علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

علیمہ خان کو 20 ستمبر کو لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے حکم پر پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے حکم میں ان کی موجودگی کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

21 ستمبر کو عمران خان کی دو مزید بہنوں، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی 30 روز کے لیے ایم پی او کے تحت حراست میں لینے کے احکامات جاری کیے گئے۔ دونوں کو لاہور ڈپٹی کمشنر کے حکم پر حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں جیل منتقل کیا گیا۔

پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ عظمیٰ اور نورین کو ان کے بچوں سمیت پولیس نے حراست میں لیا اور انہیں بکتر بند گاڑی میں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ پارٹی نے کارروائی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔

علیمہ خان کی گرفتاری سے قبل ان کی بہن نورین نیازی اور وکیل نے بھی ان کی گرفتاری سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔ بعد میں پولیس ذرائع نے علیمہ خان کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیے جانے کی تصدیق کی۔

یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی اور آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ہے۔ حکومت نے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور سڑکوں کی بندش روکنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے کارروائیوں کو سیاسی دباؤ قرار دیتے ہوئے حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ امن و امان خراب کرنے یا عوامی زندگی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تبصرہ کریں۔اور شئیر کریں