چین میں بدعنوانی، نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور عدم وفاداری کے الزامات پر فوج کے دو سینئر ترین کمانڈروں کو برطرف کردیا گیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق کمیونسٹ پارٹی نے فوج کے دو ممتاز کمانڈروں کو برطرف کر دیا ہے جن میں صدر شی جن پنگ کے بعد دوسرے اعلیٰ ترین عسکری اہلکار ژانگ یوشیا بھی شامل ہیں۔ ژانگ یوشیا پر بدعنوانی، پارٹی سے عدم وفاداری اور نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔ پارٹی نے ژانگ اور لیو ژینلی کو کئی ماہ کی تحقیقات اور سینٹرل ملٹری کمیشن سے الگ کیے جانے کے بعد پارٹی کی صفوں اور فوج سے برطرف کرنے کا اعلان کیا۔ یہ نظم و ضبط اور انسدادِ بدعنوانی کی اس مہم کی تازہ ترین پیش رفت ہے جس نے ممتاز عسکری قیادت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چینی قیادت نے دونوں سابق کمانڈروں پر سیاسی نظم و ضبط اور پارٹی قواعد کی خلاف ورزی، پارٹی کے اندر گروہ بندی کرنے اور اپنے عملے اور اہل خانہ پر نظم و ضبط نافذ کرنے یا ان کی نگرانی کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے سرکاری دستاویزات کے حوالے سے بتایا کہ ژانگ اور لیو پارٹی کے ساتھ غیر وفادار اور غیر مخلص تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی سیاسی اور معاشی خلاف ورزیاں بدعنوانی کے ذریعے دولت جمع کرنے، فرائض میں غفلت اور عہدے کے ناجائز استعمال سے جڑی ہوئی تھیں۔ان خلاف ورزیوں سے منسلک رقم کا حجم غیر معمولی طور پر زیادہ تھا۔ ان کے رویے کی نوعیت کو انتہائی سنگین اور اس کے اثرات کو شدید قرار دیا گیا۔
یہ قدم شی جن پنگ کی قیادت میں 2012 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بدعنوانی کے خاتمے اور نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کی ایک وسیع مہم کے حصے کے طور پر سامنے آیا ہے۔