جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی نے تشدد کرنے والے نوجوان کونین شاہ سے صلح کرلی۔
میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تشدد کرنے والے نوجوان کونین شاہ نے پروفیسر عارف ساقی کے گھر جا کر ان سے ملاقات کی اور معافی مانگی۔ پروفیسر نے نوجوان کو معاف کردیا۔
مقامی نیوز چینل سے گفتگو میں پروفیسر عارف ساقی نے بتایا کہ حادثے میں بھتیجے کی گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہوگیا ہے۔پروفیسر تشدد کیس میں ملزم کونین شاہ ضمانت پر ہے ۔
کراچی کے تھانہ سچل کی حدود میں 8 ستمبر کو صفورا چورنگی کے قریب جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئر مین عارف ساقی کو سندھ گرین ریسٹورنٹ کے مالک کے بیٹے نے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔