پولیس کا کہنا ہےبدھ پیر کے علاقے نا معلوم آفراد کی فائرنگ سے یہ شخص ہلاک ہوگیا۔
ملزم عادی تھا
سلمان جس کی عمر 19 سال بتائی جارہی ہے۔ لوگوں کی نظروں میں اس وقت آیا جب وہ ایک بچی کی قبر کی بے حرمتی کر رہا تھا۔اس مقدمے کی ایف ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزم اس سے پہلے بھی قبریں کھود کر خواتین کی میتوں کا ریپ کر چکا ہے اور ماضی میں پانچ ایسے واقعات ہوئے جن کے بعد اہل علاقہ کو میتوں کی دوبارہ تدفین کرنی پڑی۔آئی آر بڈھ بیر کے علاقے ‘دیہہ شیخان’ کے ایک رہائشی کی مدعیت میں درج کی گئی تھی۔
ایف آئی آر کی تفصیل
یہ ایف آئی آر عبادت گاہ یا قبرستان کے تقدس کی پامالی، ریپ، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ اور فارنرز ایکٹ کی متعدد دفعات کے تحت درج کی گئی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزم اس سے پہلے بھی قبریں کھود کر خواتین کی میتوں کا ریپ کر چکا ہے اور ماضی میں پانچ ایسے واقعات ہوئے جن کے بعد اہل علاقہ کو میتوں کی دوبارہ تدفین کرنی پڑیتھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فارنرز ایکٹ کی دفعہ اس لیے شامل کی گئی تھی کیونکہ ملزم کا تعلق افغانستان سے تھا۔

ہلاکت کب ہوئی
منگل کی شام پشاور پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ زیر حراست ملزم سلمان کو جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے شیخان قبرستان لے جایا جا رہا تھا جب تین موٹر سائیکلوں پر سوار چھ نامعلوم مسلح ملزمان نے پولیس ٹیم پر اچانک فائرنگ کر دی۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر 10 قبروں کی بے حرمتی کا اعتراف کیا تھا۔