کراچی: سندھ حکومت کے مختلف محکموں میں سرکاری گاڑیوں کے مبینہ غیرمجاز اور غیرقانونی استعمال کا معاملہ سامنے آگیا۔ ذرائع کے مطابق تبادلے اور ریٹائرمنٹ کے باوجود بعض سرکاری افسران اور دیگر افراد نے سرکاری گاڑیاں متعلقہ محکموں کو واپس نہیں کیں۔
سندھ حکومت کی درجنوں گاڑیاں اس وقت غیرمجاز افراد کے زیر استعمال ہیں۔ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ نے تمام سرکاری گاڑیوں کا جامع ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ کی زیرصدارت سیکریٹریز کمیٹی کے اجلاس میں سرکاری گاڑیوں کی مبینہ گمشدگی، غیرقانونی تحویل اور غیرمجاز استعمال کا معاملہ زیر غور آیا۔
چیف سیکریٹری نے ریٹائر ہونے والے افسران، عہدہ تبدیل ہونے والے ملازمین اور سابق وزرا کے پاس موجود سرکاری گاڑیاں واپس لینے کے لیے فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
اس حوالے سے محکمہ قانون و پارلیمانی امور سمیت دیگر محکموں نے اپنے ذیلی شعبوں کو کارروائی کے لیے مراسلے جاری کردیئے ہیں۔مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ریٹائرمنٹ یا عہدہ ختم ہونے کے بعد متعلقہ افراد سے سرکاری گاڑیاں فوری واپس لی جائیں۔ غیرمجاز افراد کے زیر استعمال گاڑیوں کو بھی تحویل میں لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
تمام محکموں کو گاڑیوں کی رجسٹریشن، موجودہ مقام، مجاز صارف اور استعمال کی تفصیلات پر مشتمل مکمل ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی حام کو ریجنل، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر سرکاری گاڑیوں کی نگرانی یقینی بنانے کا بھی کہا گیا ہے۔
محکمہ قانون سندھ کے مطابق سرکاری گاڑیاں صرف مجاز سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کی جانی چاہئیں۔