بلوچستان کے سرحدی شہر چمن اور گردونواح میں بدھ 23 ستمبر کو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ متعدد افراد احتیاطاً گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.8 ریکارڈ کی گئی جبکہ زیرِ زمین گہرائی 12 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز چمن کے قریب واقع پہاڑی سلسلہ بتایا گیا ہے.
زلزلے کے جھٹکے چمن کے علاوہ پاک افغان سرحدی علاقوں اور گردونواح میں بھی محسوس کیے گئے۔ کم شدت کے باوجود زلزلے کے اچانک جھٹکوں سے شہریوں میں تشویش پیدا ہوئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ مقامی حکام کی جانب سے بھی تاحال کسی بڑے مالی یا املاک کے نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں۔ 12 اگست 2026 کو ژوب اور چمن سمیت مختلف علاقوں میں 4.8 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر بتائی گئی۔ اس کے بعد30 اگست کو چمن اور گردونواح میں 3.5 شدت کے جھٹکے محسوس ہوئے۔
حالیہ زلزلے کے بعد شہریوں نے کھلی جگہوں کا رخ کیا، تاہم جھٹکے رکنے کے بعد معمولات زندگی بحال ہوگئے۔
زلزلے کے ماہرین کے مطابق کسی مخصوص علاقے میں زلزلوں کے وقفے وقفے سے آنے کا مطلب لازمی طور پر بڑے زلزلے کی پیش گوئی نہیں ہوتا۔ شہریوں کو ہنگامی صورتحال میں پرسکون رہنے، عمارتوں سے محفوظ فاصلے پر جانے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔