وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان سے ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ طالبان دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی بند کریں۔
او آئی سی رابطہ گروپ برائے افغانستان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا افغانستان کی صورتحال علاقائی امن و سلامتی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ افغانستان میں دو درجن سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں۔ یہ گروہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کے ادارے دہشت گردی کے خلاف بڑی قربانیاں دے رہے ہیں، کوہاٹ مسجد پر حملے میں 24 افراد جاں بحق ہوئے۔ او آئی سی کو طالبان پر زور دینا چاہیے کہ دہشت گردی ختم کریں، اور افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا طالبان کو دہشت گردی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ پاکستان پر حملے کے لیے افغانستان سے منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ طالبان دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی بند کریں۔ ان حملوں کو بیرونی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا سب سے زیادہ خواہاں ہے۔ افغانستان میں بےامنی کے نتائج سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ پاکستان ایک مستحکم اور خوشحال افغانستان کے قیام کی حمایت کے لیے پرعزم ہے تاہم اس مقصد کے لیے باہمی احترام اور طالبان کا سیاسی عزم ضروری ہے۔