پوری دنیا میں جنسی زیادتیوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم ‘می ٹو’ کا باعث بننے والے ہالی ووڈ کے پروڈیوسر اور پروڈکشن کمپنیوں کے مالک ہاروی وائن اسٹائن کو جنسی جرم ثابت ہونے پر 15 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
امریکی میڈیا کے مطابق سابق امریکی فلم پروڈیوسر اور پروڈکشن کمپنیوں میرامیکس اور وائن اسٹائن کے شریک بانی ہاروی وائن اسٹائن کو گزشتہ روز نیو یارک کی عدالت نے ایک اور می ٹو مقدمے میں جنسی جرم کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنائی۔
وائن اسٹائن کو 2020 میں سابق ٹی وی پروڈکشن اسسٹنٹ ہیلی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ چھ سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی قانونی کشمکش کے بعد سزا کالعدم قرار دے دی گئی تھی۔ گزشتہ سال دوبارہ ہونے والے مقدمے میں جیوری نے انہیں دوبارہ مجرم قرار دیا۔
ماضی میں فلمی صنعت کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار ہونیوالے 74 سالہ آسکر ایوارڈ یافتہ پروڈیوسر کی مشہور فلموں میں شیکسپیئر ان لو، پلپ فکشن اور چاکلیٹ شامل ہیں۔ 2017 میں جنسی زیادتی کے الزامات سامنے آنے کے بعد ان کا زوال شروع ہوا جس نے می ٹو تحریک کو جنم دیا۔