×

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ محض سفارتی بیانات یا رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ تعلق ہمیشہ اوپر نیچے رہا ہے۔

بحثیت  بین القوامی کے طالب علم  ہونے کے آج  ایک اہم بات معلوم ہوئی کہ آج امریکی وفد کی آمد کئی لحاظ سے تاریخ ساز ہے ۔ کیونکہ 78 سالوں میں یہ پہلی بار ہے  پاکستان میں جمہوری  حکومت ہے اور امریکی وفد نے اسلام آباد کا رخ کیا ہے۔1978 میں جمی کارٹر نے سویلین دورِ حکومت میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جب،زولفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے ۔ ، جبکہ دیگر ادوار میں زیادہ تر دورے فوجی حکومتوں کے دوران ہوئے۔

  جہاں  ایک طرف پوری دنیا کا میڈیا   اسلام آباد کی طرف دیکھ رہا ہے، وہیں پاکستان کی ایک ہی پکار ہے اب ہم کوئی جنگ نہین چاہتے ہم امن کے داعی ہیں اور امن ہماری  پہچان ہے ۔ ہم وہ قوم ہے جو ہزاروں سال رکھنے والی تاریخ کو بچانے میں  کامیاب ہونے جارہے ہیں ۔ امن کی امید  ہمیں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اب امن چاہتا ہے ۔

تاریخ میں جھانکیں تو جب بھی کسی امریکی صدر یا اعلیٰ عہدیدار نے پاکستان کا رخ کیا، اس کے پیچھے خطے میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک ترجیحات، رہیں ہیں ۔ چاہیے امریکا کو چین تک رسائی حاصل کرنا ہو یا سیٹو اور سینٹو کا معلہ ہو  ۔ 80 کی دہائی میں جینوا اکارڈ ہو  جس میں افغان جنگ کا سامنا ہم آج تک جھیل رہے ہیں۔

آج   عالمی   طاقتوں کی صف بندی طرف  لیکن مستقبل کے  لئے اہم فیصلوں کی جھلک  اسلام آباد مذاکرات میں نظر آتی ہے۔ اسلام آباد میں ایک بار پھر ممکنہ اعلیٰ سطحی رابطوں اور مذاکرات کی بازگشت اسی تسلسل کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جہاں سوال صرف ملاقات کا نہیں بلکہ اس کے ممکنہ اثرات اور دنیا کے امن کا ہے۔

ہم واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں کہ یہ تاریخ میں پہلی بار نہیں کہ کوئی امریکی صدر یا نائب صدر پاکستان کا دورہ کر رہا ہو جب کہ ملک میں فوجی آمر برسرِ اقتدار ہونے کے بجائے پاکستان میں جمہوریت  بحال ہو۔

 1959 میں آئزن ہارور  ، 1967 میں لنڈن بی جانزن  . ، 1969 میں رچرڈ نکسن ، 2000 میں بل کلنٹن  اور 2006 میں جارج بی بش کے دورے اسی تسلسل کی اہم کڑیاں ہیں۔

ان دوروں کی خاص بات یہ رہی کہ یہ محض رسمی نہیں تھے بلکہ ہر دورہ عالمی سیاست کے ایک نئے باب کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔رچڑ نکسن  کے دورے کے دوران پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ سفارتکاری میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ بل کلنٹن  کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان عالمی تنہائی کا شکار تھا۔ اسی طرح جارج بش کے دورے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شراکت داری کو نئی جہت دی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان میں امریکی قیادت کے یہ دورے اکثر اس وقت ہوئے جب دنیا کسی بڑے جیوپولیٹیکل موڑ پر کھڑی تھی۔ ہر دورے کے بعد نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر نئی صف بندیاں دیکھنے میں آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی کسی بھی نئی ملاقات کو محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ممکنہ اسٹریٹجک تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہاں  قارئین کے لئے کچھ دلچسپ  اعداد و  پیش خدمت ہیں ۔

میں جمی کارٹر نے سویلین دور حکومت میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے

اب تک چھ امریکی صدور پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں

کا 2000 کا دورہ انتہائی مختصر اور سخت سیکیورٹی میں ہوا تھا Bill Clinton

رچرڈ نکسن کے دورے کے دوران پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ سفارتکاری میں اہم کردار ادا کیا۔زیادہ تر امریکی صدور کے دورے فوجی ادوار میں ہوئے کیونکہ امریکہ اسٹریٹجک استحکام کو ترجیح دیتا رہا۔باراک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔پاکستان کا ہر امریکی صدارتی دورہ صرف ملاقات نہیں بلکہ عالمی سیاست کے ایک نئے باب کی شروعات رہا۔پاکستان میں امریکی صدور کے دورے اکثر اس وقت ہوئے جب دنیا کسی بڑے جیوپولیٹیکل موڑ پر کھڑی تھی۔

ہر امریکی صدارتی دورے کے بعد جنوبی ایشیا کی سیاست میں نئی صف بندی دیکھنے میں آئی۔پاکستان کے دورے امریکی صدور کے لیے محض سفارتکاری نہیں بلکہ اسٹریٹجک فیصلوں کی لانچنگ پیڈ ثابت ہوئے۔دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ زیادہ تر دوروں کے بعد یا تو جنگی صف بندی بدلی یا عالمی اتحاد۔

پاکستان میں ہونے والی ملاقاتیں اکثر واشنگٹن اور بیجنگ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوئیں1959میں آئزن ہاور کے دورے کے بعد پاکستان سرد جنگ میں امریکی بلاکس کا اہم اتحادی بن گیا۔1967میں لنڈن جانسن کے دورے کے بعد پاک امریکہ تعلقات مضبوط ہوئے مگر خطے میں کشیدگی کی بنیادیں پڑیں۔1969میں نکسن کے دورے کے بعد امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ سفارتکاری شروع ہوئی1978میں جمی کارٹر کے دورے کے بعد پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر عالمی دباؤ بڑھا اور بعد میں افغان جنگ میں کردار بڑھاچ،2000میں بل کلنٹن کے دورے کے بعد پاکستان عالمی تنہائی کا شکار رہا مگر 9/11 کے بعد اہم اتحادی بن گیا۔2006میں جارج بش کے دورے کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ۔

اپنے خیالات کا اشتراک کریں

بلا جھجھک اپنے خیالات کا اشتراک کریں۔ برائے مہربانی بد زبانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔