ایک تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نفسیاتی علاج ٹائپ 2 ذیابیطس اور وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایک تازہ تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نفسیاتی علاج ٹائپ 2 ذیا بیطس کے مریضوں میں خون میں شوگر کی سطح کو بہتر بنانے اور وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے نتائج نے بتایا کہ ذیا بیطس کے انتظام میں نفسیاتی معاونت بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مریضوں میں گلائیکیٹڈ ہیموگلوبن کی سطح میں بہتری تین ماہ کے اندر دیکھی گئی جبکہ جسمانی وزن میں کمی طویل عرصے تک جاری رہنے والی فالو اَپ مدت کے دوران نمایاں ہوئی۔
تحقیق کے مطابق ٹائپ 2 ذیا بیطس کے مریضوں کو بیماری کو قابو میں رکھنے کے لیے ادویات کا باقاعدگی سے استعمال، خوراک میں تبدیلی اور جسمانی سرگرمی سمیت مسلسل خود نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے تاہم، ذہنی دباؤ اور بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے سے پیدا ہونے والے جذباتی مسائل بعض افراد کے لیے ان معمولات پر قائم رہنا مشکل بنا سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق کاؤنسلنگ، کوگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (سی بی ٹی) اور موٹیویشنل انٹرویو جیسے نفسیاتی طریقے ان مشکلات سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں اور انہیں ذیابیطس کی نگہداشت میں تیزی سے شامل کیا جا رہا ہے۔تحقیق میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار بالغ افراد پر کی جانے والی 52 مطالعات کا منظم جائزہ اور میٹا تجزیہ کیا گیا۔