امریکا کی سپریم کورٹ نے غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے ملک کے بجائے کسی دوسرے ملک بھیجنے پرعائد پابندیاں ختم کر دیں۔
فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق قدامت پسند اکثریت رکھنے والی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی ہنگامی درخواست کو منظور کرتے ہوئے زیریں عدالت کا وہ فیصلہ معطل کر دیا جس میں غیر قانونی تارکین وطن کی تیسرے ملک کی طرف بے دخلی پر پابندی عائد کی تھی تاہم اسے مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے تارکین کو تیسرے ممالک میں بھجوائے جانے کے عمل سے جڑے معاملات کی قانونی حیثیت کو پرکھنے پر بھی آمادگی ظاہر کی اور کہا کہ اس بارے میں دسمبر میں سماعت کی جا سکتی ہے۔
زیریں عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جن افراد کو ملک بدر کیا جا رہا ہو ان کو پہلے سے مکمل طور پر بتایا جانا ضروری کہ انہیں کس ملک میں بھیجا جائے گا تاکہ وہ ممکنہ خدشات سے عدالت کو آگاہ کر سکیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران لاکھوں تارکین کو امریکا سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا۔ 2025 میں وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد انہوں نے اس پر عمل کرتے ہوئے ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
صدر ٹرمپ کے ایک وکیل نے عدالت کو باتیا کہ تیسرے ممالک کی طرف تارکین کو تیزی سے بھجوانا ضروری ہے خصوصاً ایسے افراد کو جو سنگین جرائم میں ملوث ہوں اور یہ ان کو ملک سے نکالنے کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زیریں عدالت کے فیصلے سے ملک بدری کے عمل میں انتظامی مسائل پیدا ہوئے۔