طاقت، خاموشی اور حکمتِ عملی سے ہی ایران اور امریکا آگے بڑھ سکیں گے۔
اسلام آباد مذاکرات کو آج 3 دن گزر چکے ہیں ۔ فضا کبھی کھلی اور واضح لگتی ہے اور ٹرمپ کے بیانات سے لگا کہ نہیں بہتر اور پر امن دنیا ابھی ممکن نہیں ۔پھر بھی ہم یہ ہی کہیں گے کہ اگر صرف اس اہم ترین موقع کو ایک “ناکامی” سمجھا جائے تو یہ بین الاقوامی سفارتکاری کی پیچیدگی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ہمیں سمجھنا ہوگا کہ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات اکثر اس وقت ختم نہیں ہوتے جب وہ بظاہر رک جائیں—وہ صرف ایک اور سطح پر منتقل ہو جاتے ہیں۔یہی وہ سطح ہے جسے “ٹریک ٹو” کہا جاتا ہے۔
ہم نےد یکھا اور جے ڈی وینس نےا کہا اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت ایک ایسے مقام تک پہنچی جہاں تحریری مسودے زیرِ غور آئے۔ماہرین مانتے ہیں کہ ہر ڈائیلاگ میں یہ مرحلہ فیصلہ کن ہوتا ہے، کیونکہ یہاں بیانات نہیں بلکہ الفاظ کی قانونی حیثیت طے ہوتی ہے۔جب یہ مرحلہ تعطل کا شکار ہوتا ہے تو عمل ختم نہیں ہوتا۔بلکہ وہ پریس کانفرنس کے کھلے ہال سے بند کمروں میں اورسرکاری میز سے غیر رسمی رابطوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔
کیمرج انڈیمنٹ فار انٹر نیشنل پیس کے مطابق ٹریک ٹو سفارتکاری کی خاصیت یہی ہے کہ اس میں شامل افراد کے پاس باضابطہ اختیار نہیں ہوتا، مگر ان کی رسائی اور اثر غیر معمولی ہوتا ہے۔اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹریک ٹو ایسے ماحول میں “رسک فری ڈائیلاگ” فراہم کرتا ہے جہاں ریاستیں بغیر سیاسی قیمت کے نئے آئیڈیاز پر بات کر سکتی ہیں۔اور ہم موجودہ حالات اور خبروں میں دیکھ رہے ہیں کہ اب بات دوسرے مرحلے میں داخل ہو کے جمعرات کو ایک بار پھر اسلام اباد ٹاک شروع ہوسکیں گی ۔ یہ بات ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ امید پر دنیا قائم ہے۔ اسی طرح Chatham House کی
“چاتھم ہاؤس ” کے مطابق حساس مکالمے اکثر اسی وقت ممکن ہوتے ہیں جب انہیں عوامی نگرانی سے دور رکھا جائے۔ Brookings Institution اس بات پر زور دیتا ہے کہ پیچیدہ تنازعات میں غیر رسمی چینلز اعتماد سازی کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں، خاص طور پر جب براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہوں. International Crisis Group بارہا نشاندہی کر چکا ہے کہ بیک چینل سفارتکاری تنازعات کو “منیج” کرنے کا ایک عملی ذریعہ ہے، حتیٰ کہ جب حل فوری طور پر ممکن نہ ہو۔
ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اسلام آباد نا اتوار کو امریکی نائب صدر کی پریس کانفرنس کے بعد چپ بیٹھے تھے ۔ ہمارے دزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پہلے ہی مرحلے میں کہا تھا کہ “مزاکرات آگے مرھلے میں جائیں گے ۔ امید اچھی رکھیں ۔ یعنی ٹرمپ کے دھوادار بیانات اپنی جگہ لیکن ہم دیکھ رہیں ہے کہ بات اگے بڑھتے ہوئی اور بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ یہ آج نہیں ہو رہا بلکہ ہر ڈیپلومیسی کا انداز ہے ۔
ہم کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی بات کریں ۔ تو پہلےپہل کیمپ ڈیوڈ میں بات ہوئی جس کا نتجہ اوسلو معاہدے کی صورت میں آیا۔
بظاہر اسلام آباد شروع میں خاموش نظر آرہا تھا ۔اور میڈیا چاہیے مقامی ہو یا غیر ملکی سب ہی ابتدائی طور پر اسے ناکام قرار دے رہے تھے لیکن آج امریکی صدر او نائب صدر دونوں نے ہی واضح اندز میں کہہ دیا ہے بات آگے بڑھ رہی ہے ، امید کی جارہی ہے کہ جمعرات 16 اپریل کو مذاکرات ہوسکتے ہیں ۔ یہاں علاقائی ثالثوں کی بات بھی ہو رہی ہے اور متبادل سفارتی کوشیشوں کی بھی ۔ مگر سب خاموشی سے جاری ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ انشااللہ کسی تحریری مسودے تک پہنچ جائیں گے ۔ بات چیت چلتی رہی ہے ۔ ایک طرف امریکی صدر کی دباو کی سیاست اور ہے وہیں نائب صدر کی لچک دار بیان کہ گفتگو میز تک جائے گی ۔

دنیا مان رہی ہے کہ اسلام آباد نے ایک ایسا فریم ورک فراہم کیا ہے جس میں 47 سال دو دشمن ملک ایک ساتھ بیٹھے ۔ بات چیت ہوئی اور نتیجہ خیز مذاکرات تک تحریری نکات تک بات بنتی اور بگڑتی نظر آئی ۔ سرخ لکریں واضح ہوئیں ۔ اختلافات اور جہاں تک لچک دیکھائی جا سکتی ہے اور کہاں سے آگے نہیں ہٹنا ۔
آج دونوں طرف واضح ہے۔ امید مکالمے میں اور جنگ پر عمل جاری ہے ۔ بھولنا نہیں چاہیے کہ سفارتکاری کی دنیا میں، اکثر سب سے اہم پیش رفت وہ ہوتی ہے جو دکھائی نہیں دیتی۔
